rajamuzafarali

I will i can Believe that!

 بچى كا سر مونڈنا

Leave a comment

ترمذى رحمہ اللہ نے سمرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

” بچہ اپنے عقيقہ كے ساتھ گروى اور رہن ركھا ہوا ہے، اس كى جانب سے ساتويں روز ذبح كيا جائے، اور نام ركھا جائے، اور اس كا سر مونڈا جائے ”

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1522 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح سنن ترمذى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

يہ حديث پيدا ہونے والے بچے كا سر مونڈنے كے مستحب ہونے كى دليل ہے.

ليكن فقھاء كرام بچى كا سر مونڈنے كے متعلق اختلاف كرتے ہيں، چنانچہ مالكيہ اور شافعيہ بچے كى طرح بچى كا سر مونڈنے كے قائل ہيں، ليكن حنابلہ بچى كا سر مونڈنے كے قائل نہيں.

شافعى حضرات نے بچى كا سر مونڈنے كى دليل امام مالك اور امام بيھقى وغيرہ كى مرسل روايت سے لى ہے جو يہ ہے:

محمد بن على بن حسين بيان كرتے ہيں كہ: رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى بيٹى فاطمہ رضى اللہ تعالى عنہا نے حسن اور حسين، اور زينب اور ام كلثوم كے بالوں كا وزن كر كے اس كے برابر چاندى صدقہ كى ”

اسے بيھقى نے على رضى اللہ تعالى عنہ سے مرفوع بھى روايت كيا ہے كہ:

” رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فاطمہ رضى اللہ تعالى عنہا كو حسين كے بالوں كے برابر چاندى صدقہ كرنے كا حكم ديا ”

امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں: اس كى سند ميں ضعف ہے.

اور حنابلہ يہ دليل ديتے ہيں كہ: اصل ميں عورت كے بال مونڈنا ممنوع ہيں، اور پيدا ہونے والے بچے كا سر مونڈنے كا سنت ميں ثبوت ملتا ہے بچى كا نہيں.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

” بغير كسى ضرورت كے عورت كا سر كے بال منڈوانے كى كراہت كى روايت ميں كوئى اختلاف نہيں، ابو موسى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

” مصيبت كے وقت چيخ و پكار كرنے اور سر مونڈنے والى عورت سے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم برى ہيں ”

متفق عليہ.

اور خلال نے اپنى سند كے ساتھ قتادہ عن عكرمہ سے روايت كيا ہے كہ:

” نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عورت كو سر مونڈنے سے منع فرمايا ”

اور حسن كہتے ہيں يہ مثلہ يعنى اللہ كى پيدا كردہ خلقت ميں تبديلى ہے.

اور اس ليے كہ پيدا ہونے والى بچى كا سر مونڈنے كى حديث صحيح نہيں تو معاملہ اپنى اصل پر ہى رہيگا، يعنى مونڈنے كى ممانعت.

مزيد ديكھيں: شرح الخرشى على مختصر خليل ( 3 / 48 ) اور المجموع ( 8 / 406 ) اور كشاف القناع ( 3 / 29 ).

اور درج ذيل حديث:

” بچہ كا عقيقہ ہے، تو اس كى جانب سے خون بہاؤ، اور اس سے گندگى دور كرو ”

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5471 ).

اس حديث ميں گندگى دور كرنے كا حكم ہے جس كى تفسير ميں اختلاف ہے:

ايك قول يہ ہے كہ: اس سے مراد سر مونڈنا ہے.

اور ايك قول يہ ہے: اس سے مراد اس پر لگى ہوئى خون وغيرہ كى گندگى ہے، تو اس سے يہ علم ہوا كہ اسے غسل دينا مستحب ہے.

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

” طبرانى كى ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى روايت ميں آيا ہے كہ:

” اس سے گندگى دور كى جائے، اور اس كا سر مونڈا جائے ”

تو اس پر عطف ہے، تو گندگى تو سر مونڈنے سے بھى عام پر محمول كرنا اولى ہے، اس كى تائيد عمرو بن شعيب كى بعض روايت سے ہوتى ہے جس ميں ہے:

” اور اس سے اقذار يعنى گندگى دور كى جائے ”

اسے ابو الشيخ نے روايت كيا ہے” انتہى.

ديكھيں: فتح البارى ( 9 / 593 ).

بہر حال حديث بچے كا سر مونڈنے ميں نص ہے، اور حنابلہ كے مسلك ميں يہى راجح ہے.

راجا مظفر علی

Advertisements

Author: rajamuzafarali

I know I am some thing Bcoz GOD doestnt create garbage

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s